Lease Property/ Rental Property Different
پاکستان کے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ (خصوصاً پنجاب اور دیگر علاقوں) کے قوانین اور روایت کے مطابق، **لیز (Lease) والی پراپرٹی** اور **11 ماہ کے کرائے نامے (Tenancy Agreement) والی پراپرٹی** میں چند بہت واضح اور اہم فرق ہوتے ہیں۔
ان دونوں کا آسان موازنہ نیچے دیا گیا ہے:
### 1. مدت کا فرق (Duration)
* **11 ماہ والی پراپرٹی:** یہ عام طور پر رہائشی یا عام کمرشل استعمال کے لیے عارضی معاہدہ ہوتا ہے۔ 11 ماہ کا وقت اس لیے رکھا جاتا ہے تاکہ رجسٹریشن کے پیچیدہ قوانین اور بھاری فیسوں سے بچا جا سکے۔ مدت ختم ہونے پر دونوں فریقین کی رضامندی سے نیا معاہدہ بنتا ہے۔
* **لیز (Lease) والی پراپرٹی:** یہ طویل مدت (Long-term) کے لیے ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر 3 سال، 5 سال، 10 سال یا اس سے بھی زیادہ (جیسے 99 سال کی سرکاری لیز) کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر بڑے کمرشل منصوبوں، بینکوں، یا کارپوریٹ دفاتر کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
### 2. قانونی رجسٹریشن اور فیس (Registration & Stamp Duty)
* **11 ماہ والی پراپرٹی:** 'پنجاب رینٹڈ پریمیسز ایکٹ' (Punjab Rented Premises Act) یا متعلقہ صوبائی قوانین کے تحت 11 ماہ کے معاہدے کو سب-رجسٹرار کے پاس رجسٹر کروانا لازمی نہیں ہوتا، بلکہ اسے صرف نوٹری پبلک سے اٹیسٹ کروانا یا رینٹ رجسٹرار کے پاس اندراج کروانا کافی ہوتا ہے۔ اس پر ٹیکس اور اسٹیمپ ڈیوٹی بہت کم ہوتی ہے۔
* **لیز والی پراپرٹی:** جب بھی کوئی معاہدہ 1 سال (12 ماہ) یا اس سے زائد مدت کا ہو، تو قانون کے مطابق اسے **سب-رجسٹرار (Sub-Registrar)** کے پاس باقاعدہ رجسٹر کروانا لازمی ہوتا ہے۔ اس پر پراپرٹی کی مالیت یا کرائے کے حساب سے بھاری اسٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔
### 3. کرائے میں اضافہ (Rent Increase)
* **11 ماہ والی پراپرٹی:** ہر 11 ماہ بعد جب نیا معاہدہ بنتا ہے، تو مالک مکان کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ مارکیٹ کے حساب سے کرائے میں اضافہ کرے (عام طور پر سالانہ 10% اضافہ طے ہوتا ہے)۔
* **لیز والی پراپرٹی:** اس میں کرائے میں اضافے کا طریقہ کار پہلے دن ہی پورے لیز پیریڈ کے لیے لکھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ طے کر دیا جاتا ہے کہ ہر 3 سال بعد کرایہ 15% بڑھے گا۔ مالکِ مکان لیز کے دوران اپنی مرضی سے اچانک کرایہ نہیں بڑھا سکتا۔
### 4. بے دخلی اور معاہدے کا خاتمہ (Eviction & Termination)
* **11 ماہ والی پراپرٹی:** اس میں مالک یا کرایہ دار عام طور پر 1 سے 2 ماہ کا نوٹس دے کر معاہدہ وقت سے پہلے ختم کر سکتے ہیں۔ مالک مکان کے لیے پراپرٹی خالی کروانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
* **لیز والی پراپرٹی:** لیز کو وقت سے پہلے ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر کوئی بینک یا کمپنی لاکھوں روپے لگا کر وہاں سیٹ اپ بناتی ہے، تو وہ لیز میں 'لاک ان پیریڈ' (Lock-in Period) رکھواتے ہیں، جس کے دوران مالکِ مکان انہیں قانونی طور پر بے دخل نہیں کر سکتا، الا یہ کہ کرایہ دار معاہدے کی کوئی بڑی خلاف ورزی کرے۔
### 5. حقوق اور اختیارات (Rights & Sub-letting)
* **11 ماہ والی پراپرٹی:** کرایہ دار کے پاس محدود حقوق ہوتے ہیں۔ وہ پراپرٹی میں کوئی بڑی تبدیلی یا توڑ پھوڑ نہیں کر سکتا اور نہ ہی آگے کسی اور کو کرائے پر دے سکتا ہے (Sub-let نہیں کر سکتا)۔
* **لیز والی پراپرٹی:** طویل مدتی لیز میں بعض اوقات لیز ہولڈر (Leaseholder) کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ پراپرٹی کے اندرونی ڈھانچے کو اپنے بزنس کے مطابق تبدیل کر سکے، اور کچھ معاہدوں میں وہ پراپرٹی کا کچھ حصہ آگے کسی اور کو بھی لیز (Sub-lease) پر دے سکتا ہے۔
### خلاصہ (Quick Summary)
| خصوصیت | 11 ماہ کا کرایہ نامہ | لیز (Lease) |
|---|---|---|
| **مدت** | صرف 11 ماہ (مختصر مدت) | 1 سال سے لے کر کئی سال تک (طویل مدت) |
| **رجسٹریشن** | سب-رجسٹرار کے پاس لازمی نہیں | سب-رجسٹرار کے پاس باقاعدہ رجسٹریشن لازمی |
| **استعمال** | زیادہ تر رہائشی گھر، دکانیں | کمرشل بلڈنگز، بینک، پٹرول پمپ، بڑی کمپنیاں |
| **تحفظ** | مالکِ مکان کے لیے پراپرٹی واپس لینا آسان | کرایہ دار (کمپنی) کے بزنس کا طویل مدتی تحفظ |
اگر آپ کا مقصد کسی عام کلائنٹ کو دکان یا مکان دینا ہے تو **11 ماہ کا معاہدہ** سب سے محفوظ اور رائج طریقہ ہے، لیکن اگر سامنے کوئی بینک، برانڈ یا کارپوریٹ کلائنٹ ہو تو وہ ہمیشہ **رجسٹرڈ لیز** کا تقاضا کرتے ہیں۔
Buch Properties and Builders Multan
بُچ پراپرٹیز اینڈ بلڈرز ملتان
عبدالباسط ملک
03006383003
Comments
Post a Comment