کیا پاکستان ایران کے ساتھ تجارت کرتا ہے؟؟؟
پاکستان اور ایران کے درمیان پیٹرول کی تجارت کی صورتحال تھوڑی پیچیدہ ہے۔ اس کا جواب ہاں بھی ہے اور ناں بھی۔ تفصیل درج ذیل ہے:
1. سرکاری سطح پر (Official Trade)
سرکاری طور پر پاکستان ایران سے پیٹرول نہیں خریدتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ایران پر لگی بین الاقوامی پابندیاں (Sanctions) ہیں۔ اگر پاکستان سرکاری طور پر ایران سے تیل خریدتا ہے تو اسے عالمی مالیاتی اداروں اور امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
2. غیر قانونی تجارت یا اسمگلنگ (Smuggling)
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سرحد ایران سے ملتی ہے، جہاں سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزیل بڑے پیمانے پر اسمگل ہو کر پاکستان آتا ہے۔
یہ پیٹرول سستا ہوتا ہے، اس لیے بلوچستان، سندھ اور اب پنجاب کے کئی حصوں میں یہ عام بکتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق، پاکستان کی ایندھن کی ضرورت کا ایک بڑا حصہ اسی اسمگل شدہ ایرانی تیل سے پورا ہوتا ہے، حالانکہ یہ قانونی نہیں ہے۔
3. حالیہ پیش رفت (Barter Trade)
پچھلے کچھ عرصے سے دونوں ملکوں نے "بارٹر ٹریڈ" (اشیاء کے بدلے اشیاء) پر بات چیت شروع کی ہے تاکہ پابندیوں سے بچتے ہوئے تجارت کی جا سکے۔ اس کے تحت پاکستان اپنی کچھ مصنوعات (جیسے چاول) دے کر ایران سے توانائی کی مصنوعات لینے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ ابھی مکمل طور پر بڑے پیمانے پر نافذ نہیں ہوا۔
خلاصہ:
کاغذات کی حد تک پاکستان ایران سے پیٹرول نہیں لیتا، لیکن عملی طور پر پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں ایرانی پیٹرول کا بہت بڑا حصہ موجود ہے جو غیر قانونی راستوں سے آتا ہے۔
Comments
Post a Comment